رضاثاقب مصطفائی

بلبل نے گل انکو کہا ، قمری نے سروِ جاں فدا
حیرت نے جھنجلا کر کہا ،یہ بھی نہیں وہ بھی نہیں

خورشید تھا کس زور پر ، کیا بڑھ کہ چمکا تھا قمر
بے پردہ جب وہ رخ ہو، یہ بھی نہیں وہ بھی نہیں

Comments

Popular posts from this blog

پیش حق مژدہ شفاعت کا تضمین بر کلام امام احمد رضا

.کوئی گل باقی رہے گا نہ چمن رہہ جائے گا تضمین بر کلامِ سیِّد کفایت علی کافیٓ علیہ الرحمہ