حُدود طائر سدرہ حضور جانتے ہیں

حُدود طائر سدرہ حضور جانتے ہیں.
کہاں ہے عرشِ معلیٰ حضور جانتے ہیں

جو ہو چکا جو ہوگا حضور جانتے ہیں
تیری عطا سے خدایا حضور جانتے ہیں

وہ مومنوں کی تو جانوں سے بھی قریب ہوۓ
کہاں سے کس نے پکارا حضور جانتے ہیں

بروزِ حشر شفاعت کریں گے چن چن کر
ہر ایک غلام کا چہرہ حضور جانتے ہیں

پہنچ کر سدرہ پے روح الامین یہ بولے
کے اس سے آگے کا راستہ حضور جانتے ہیں

بلا رہیں ہیں نبی جا کے اتنا بول اسے
درخت کیسے چلے گا حضور جانتے ہیں

کہاں مریں گے ابو جہل وعتبہ و شیبہ
کے جنگِ بدر کا نقشہ حضور جانتے ہیں

اسی لئے تو سُلایا ہےاپنے پہلو میں
کے یارِ غار کا رتبہ حضور جانتے ہیں

عمر نے تن سے جدا کر دیا تھا سر جس کا
وہ اپنا ہے کے پرایا حضور جانتے ہیں

نبی کا فیصلہ نہ مان کر وہ جان سے گیا
مزاج عمر کا ہے کیسا حضور جانتے ہیں

وہی ہے پیکرِشرم و حیا وہ زلنوریں
مقام ان کی حیا کا حضور جانتے ہیں

وہ خود شہید ہیں بیٹے نواسے پوتے شہید
علی کی شانِ یگانہ حضور جانتے ہیں

ہیں جس کےمولا حضور اسکے ہیں علی مولا
ابو تراب کا رتبہ حضور جانتے ہیں

میں ان کی بات کروں یہ کہاں میری اوقات
کہ شانِ فاطمہ زہرہ حضور جانتے ہیں

جنت میں کون ہے سردار نوجوانوں کے
حسن حسین کے نانا حضور جانتے ہیں

نہیں ہیں زادِ سفرپاس جن غلاموں کے
انھیں بھی در پے بلانا حضور جانتے ہیں

خدا ہی جانے ان کوہے پتا کیا کیا
ہمیں پتا ہے بس اتنا حضور جانتے ہیں

صَلَّی اللّهُ عَلٰی حَبِیْبِهٖ مُحَمَّــــدٍ وَّآلِـهٖ وَسَلَّم

Comments

Popular posts from this blog

پیش حق مژدہ شفاعت کا تضمین بر کلام امام احمد رضا

.کوئی گل باقی رہے گا نہ چمن رہہ جائے گا تضمین بر کلامِ سیِّد کفایت علی کافیٓ علیہ الرحمہ