قاسم علی شاہ
قاسم علی شاہ، ماہر تعلیم، دانشور اور ٹرینر ہیں ان کے نزدیک زندگی جہد مسلسل کا نام ہے وہ زندگی میں ویژن لانے اور اس کو متحرک کرنے کا عزم لئے ہوئے ہیں۔ گزشتہ دنوں نوائے وقت نے قاسم علی شاہ کا انٹر ویو کیاجس میںہونے والی گفتگونذر قارئین ہے۔ مسکن پیدائش اور ابتدائی تعلیم کے بارے میں قاسم علی شاہ نے بتایا کہ وہ گجرات کے نزدیک گائوں معین الدین پور میں پیدا ہوئے تعلیمی مواقع نہ ہونے کی وجہ سے اور علم کی پیاس بھجانے کیلئے لاہور کی طرف ہجرت کی اسلامیہ کالج سول لائن سے انٹر میڈیٹ کرنے کے بعد یو ای ٹی میں کیمیکل انجیئرنگ میں داخلہ لیا اس کے بعد ایم بی اے کی ڈگری حاصل کی شعبہ تدریس سے وابستگی کے بارے انہوں نے بتایا کہ وہ دوران تعلیم ہی اپنے اخراجات کو پورا کرنے کیلئے شعبہ تدریس سے وابستہ ہو گئے جو آہستہ آہستہ جنون بن گیا ۔ تدریس کا سارا عمل ادارے کی شکل اختیار کر گیا مضامین کو پڑھانا چھوڑ کر لائف سکلز کو پڑھانا شروع کر دیا جو زندگی کا مقصد بن گیا۔ اس وقت متعدد یونیورسٹیوں کے ساتھ گورنمنٹ کے دو معروف اداروں MPDD (مینجمنٹ پروفیشنل ڈویلپمنٹ ڈیپارٹمنٹ) اور DSD (ڈائریکٹوریٹ فار سٹاف ڈویلپمنٹ) میں بے شمار گورنمنٹ افسران، ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسرز، سینکڑوں سکول ٹیچرز، مختلف شعبوں کے ڈائریکٹرز، ہاسپٹلز کے ایم ایس، مختلف یونیورسٹیوں کے ڈپٹی رجسٹرار اور ہزاروں طلبہ کو لائف سکلز سکھا چکے ہیں۔ قاسم علی شاہ کے مطابق پاکستان میں بجلی، بے روزگاری اور گیس کی کمی کے ساتھ رہنمائی کا بھی فقدان ہے۔ ہمارے پاس سکولز، کالج، یونیورسٹیاں تو ہیں مگر تربیت نہیں ہے کیونکہ تعلیم اور تربیت کو علیحدہ کر دیا گیا ہے ۔ قاسم علی شاہ نے بتایا کہ وہ لائف سکلز کے حوالے سے لیکچرز کی ویڈیوز ریکارڈ کر کے انٹر نیٹ پر ڈال دیتے ہیں جو بلا معاوضہ قوم کی خدمت کر رہی ہیں۔ غیر تربیت یافتہ کیا تربیت دے سکتا ہے کے بارے میں قاسم علی شاہ نے بتایا کہ یہ تعلیمی نظام کا فالٹ ہے ڈگری کے حصول کے بعد قابلیت اور اہلیت پیدا نہیں ہوتی اس کی وجہ یہ ہے کہ یونیورسٹیوں کے پورے ڈیپارٹمنٹس میں ایک آدھ ٹیچر ہوتا ہے جو بچوں کو inspiration دیتا ہے ۔لائف سکلز کے بارے میں سکالر نے بتایا کہ دنیا میں لائف سکلز گیارہ ہیں (ہاورڈ گارڈز تھیوری آف ملٹی پل انٹیلی جنس) کے مطابق دنیا میں ذہانت کی 9 اقسام ہیں ہمارا تعلیم کا نظام ایک ذہانت اور ایک اہلیت کی بنیاد پر چل رہا ہے اور وہ یادداشت ہے باقی تمام ذہانت اور اہلیت کو پس پشت ڈال دیتے ہیں معاشرے میں لاکھوں تعلیم یافتہ ملیں گے لیکن قابل لوگ نہیں ملیں گے۔ ہمارے تعلیم کا دوسرا المیہ یہ ہے کہ جس ٹیچر یا پروفیسر کو بھرتی کیا جاتا ہے اس کی کمیونیکیشن کی صلاحیت چیک نہیں کی جاتی جبکہ دنیا میں کمیونیکیشن سکلز کو اولین ترجیح دی جاتی ہے ہمارے ہاں جس کام کیلئے ٹیچر کو رکھا جاتا ہے وہ مقاصد پورے نہیں کر سکتا اور اس ڈگری کا بچوں کو کوئی فائدہ نہیں ہوتا اور طلبہ اکیڈمیوں کا رخ کر لیتے ہیں اور اتنا بڑا ایجوکیشن کا انفراسٹرکچر نتیجہ دینے سے محروم ہو جاتا ہے ۔ زندگی کے پنہاں رازوں سے آشنا ہونے کے بارے میں قاسم علی شاہ نے بتایا کہ اس میں بڑا عمل دخل واصف علی واصف اور اشفاق احمد کا ہے ان لوگوں کی وجہ سے لاہور میں فکری نشستیں منعقد ہوتی تھیں خیالات کی اور فکری آبیاری ہوتی تھی ان بزرگوں کا فیض ہے کہ آج بھی یہ نشستیں جاری و ساری ہیں ۔ زندگی میں عام سے خاص بننے کے مراحل طے کرنے کے بارے میں عظیم سکالر نے بتایا کہ اگر انسان کو محنت اور خدا کی ذات پر یقین ہے تو دنیا کی کوئی طاقت اس کو آگے بڑھنے سے روک سکتی ہے۔ تعلیم اور تدریس سے عزت ملی کتاب دوستی پر بہت یقین ہے اساتذہ کرام کے بعد جس چیز نے سب سے زیادہ فائدہ دیا وہ کتابیں ہیں طلبہ کو لائبریری، کتاب اور علم کی جستجو کی طرف لازمی لانا چاہیے کسی مصنف کی ساٹھ ستر سال کی زندگی کا تجربہ اگر کتاب پڑھ کر حاصل کر لیں تو اس سے بہتر کیا بات ہو سکتی ہے۔کونسلنگ کی اہمیت کے بارے میں قاسم علی شاہ نے بتایا کہ ہمیں ٹیچر مل جاتے ہیں مگر کوچ نہیں ملتے۔ رہنمائی کوئی نہیں دیتا ہمارے ملک میں کیرئیر پلاننگ پر کام نہیں ہو رہا میں نے طلبہ کی کیرئیر پلاننگ کا بیڑہ اٹھانے کا عزم کیا ہے ۔ قاسم علی شاہ نے بتایا کہ ترقی یافتہ ممالک میں شعبہ تعلیم کو متعلقہ لوگ دیکھتے ہیں مگر ہمارے ہاں وفاداریوں پر تعلیمی ذمہ داریاں دی جاتی ہیں جتنا لیپ ٹاپ پر رقم، خرچ کی گئی اس سے ہاورڈ جیسی دو یونیورسٹیاں بن سکتی تھیں۔ تعلیم سے انقلاب کیسے ممکن ہے اور اس کی شروعات کہاں سے کی جائیں کے بارے میں انہوں نے بتایا کہ 1: اعلیٰ تعلیمی لیڈر شپ 2: ٹیچر کی بھرتی میں کمیونیکیشن سکلز کو چیک کیا جائے 3:نصاب میں دیگر مضامین کے ساتھ ساتھ زندگی گزارنے کا مضمون بھی شامل کیا جائے 4: سکول کا ہیڈ مقابلے کا امتحان پاس کر کے آئے تو ہمارا تعلیمی نظام بہتر ہو سکتا ہے۔ قاسم علی شاہ نے اپنی تصانیف کے بارے میں بتایا کہ ان کی تین کتابیں کامیابی کا پیغام، ذرا نم ہو، آپ کا بچہ کامیاب ہو سکتا ہے مارکیٹ میں آچکی ہیں۔ قاسم علی شاہ نے بتایا کہ لائف سکلز کے حوالے سے ہفتہ وار، ماہانہ محفلیں پاک ٹی ہائوس یا ان کی رہائش گاہ پر ہوتی ہیں جس میں لوگوں کی بڑی تعداد شرکت کرتی ہے۔
Comments
Post a Comment