اقبال اور جھاد

فتوی ہے شیخ کا یہ زمانہ قلم کا ہے
دنیا میں اب رہی نہیں تلوار کارگر

لیکن جناب شیخ کو معلوم کیا نہیں؟
مسجد میں اب یہ وعظ ہے بے سود و بے اثر

تیغ و تفنگ دست مسلماں میں ہیں کہاں
ہو بھی ، تو دل ہیں موت کی لذت سے بے خبر

کافر کی موت سے بھی لرزتا ہو جس کا دل
کہتا ہے کون اسے کہ مسلماں کی موت مر

ایسے ہی اگر اسے سِترہ پڑھا جائے تو معنی ہوگا ڈھال
اور اگر اسے سَترہ پٹھا جائے تو یہ چھپانے کے معنی میں مستعمل ہوگا

اب بظاہر یہ تینوں الفاظ ایک جیسے لگتے ہیں لیکن ان کے معانی مختلف ہیں

ایسے ہی ایک لفظ ہے  "کلب ' جسکا معنی ہے کتا" اور
دنیا کو جس کہ پنجہ خونیں سے ہو خطر

باطل کی فال و فر کی حفاظت کے واسطے
یورپ زدہ میں ڈوب گیا دوش تا کمر

ہم پوچھتے ہیں شیخ کلیسا نواز سے
مشرق میں جنگ شر ہے تو مغرب میں بھی ہے شر

حق سے اگر غرض ہے تو زیبا ہے کیا یہ بات
اسلام کا محاسبہ یورپ سے بے درگزر

Comments

Popular posts from this blog

پیش حق مژدہ شفاعت کا تضمین بر کلام امام احمد رضا

.کوئی گل باقی رہے گا نہ چمن رہہ جائے گا تضمین بر کلامِ سیِّد کفایت علی کافیٓ علیہ الرحمہ