خوف خدا
سوال:-
اللہ کی خشیت یا خوف کیا ہے؟
جواب:-
*اللہ کا ڈر وہ ہے جو محبت کا ڈر ہے کہ اللہ ہم سے خفا نہ ہو ۔ تو محبت میں خشیت ہوتی ہے ۔ تو خشیت یہ ہوتی ہے کہ مل کے بھی روتے ہیں اور فراق میں تو روتے ہی ہیں ۔ کبھی آپ نے محبت کرنے والوں کو دیکھا کہ جدا ہوئے تو رو رہے تھے اور اب جب ملاقات ہے تو پھر کیوں رو رہے ہیں ۔ یہ خشیت ہے ۔ اس لیے روتے ہیں کہ پھر جدائی نہ ہو جائے ۔ وہ ”نَے“ یعنی بنسری جس کے اندر فریاد ہے ، نغمہ نَے ہے ، نالہ ہے ، فریاد ہے ، الفراق ہے ، ہُد ہُدِ فرخندہ فالِ عشق ہے ۔ تو خشیت کیا ہے؟ وہ عشق اور محبت ہے اور جس دل کے اندر عشق نہیں ہے ، اس کو کیا پتہ کہ خشیت کیا ہے ۔ رونا، شب بیداری آہِ سحر گاہی خشیت ہے ۔ بچہ بھی روتا ہے کیونکہ کھلونا ٹوٹ گیا ، اس کو دس روپے کا اور کھلونا لا دو تو پھر رونا ختم ہو جاتا ہے ۔ یہ خشیت نہیں ہے کیونکہ بچے کا رونا کھلونے کے لیے ہے اور انسان جب غریب ہونے کے ڈر سے روتا ہے تو وہ خشیتِ الٰہی نہیں ہے ۔ زمانے کے حالات کے غم سے جو روتا ہے وہ جھوٹ بول رہا ہے ۔ وہ جو بیٹوں کے خوف سے روتا ہے وہ بھی جھوٹ بول رہا ہے ، غریبی کے خوف سے جو روتا ہے وہ بھی جھوٹ بول رہا ہے ، بیماری کے خوف سے جو روتا ہے وہ بھی جھوٹ بول رہا ہے ۔ وہ اس لیے روتا ہے کہ یا اللہ سب کچھ چھن نہ جائے ۔ اس کو یہ خوف ہوتا ہے ۔ یہ خشیت نہیں ہوتی ۔ خشیت کیا ہے؟ کہ یااللہ تیرے احسانات اتنے ہیں کہ گنوا نہ سکیں ۔ محبت کا معنی جو ہے وہ خشیت ہے ۔ جس میں خشیت آ گئ اس میں سے خوف نکل گیا اور وہ لاخوف میں آ گیا ۔ اب دعا کریں ۔ یا رب العالمین جتنا ہم نے یہاں وقت گزارا ہے تیرے فضل سے گزرا ہے ، بس تو ہم سے ناراض نہ ہونا ، تیری یہی مہربانی ہے ، ہم پر راضی رہنا تیری مہربانی ہے ، ہم پر مہربانی کرنا ، ہم پر نوازشیں کرنا ، ہمیں سرفراز فرمانا ، ملکی سطح پر ہمارے حالات بہتر کر ، یارب العالمین قوم پر یہ جو وقت آیا ہے ، یہ آسانی سے ٹل جائے اور ملک کے حالات بہتر ہو جائیں ، تو ہماری ہر چیز اپنی نگاہ میں رکھ یا رب العالمین ہمیں دین کی خدمت کے لیے کچھ موقع عطا فرما ، اللہ تعالیٰ زندگی اتنی طویل رکھنا جتنی صحت کے ساتھ ہو ۔ یااللہ تُو نے جو مہربانی کی ہے ، جو احسانات کیے ہیں ، جو نوازشیں کی ہیں ، جو انعام دیے ہیں اور جو رزق دیا ہے وہ اپنی راہ میں خرچ کرنے کی توفیق دے ۔ آمین ۔ یارب العالمین ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
Comments
Post a Comment