درود شریف از رافع رضوی

درود شریف عربی کا نہیں فارسی کا لفظ ہے. عربی میں اس کا متبادل لفظ ' الصلاة على النبي' ہے. اگر درود شریف کا جائزہ لیا جائے تو یہ امر کھل کے واضح ہوجاتا ہے کہ یہ اپنے معنوں اور حقیقت دونوں کے اعتبار سے ایک دعا ہے. ایک ایسی دعا جس میں ہم رب کائنات سے یہ التجا کرتے ہیں کہ وہ رسول اکرم (ص) پر مزید رحمتیں اور برکتیں نازل فرماییں. دعا ہمیشہ مانگی جاتی ہے پڑھی نہیں جاتی. افسوس یہ ہے کہ ہمیں درود پڑھنا تو سکھا دیا گیا لیکن مانگنا کسی نے نہ سکھایا. ضرورت ہے اس امر کی کہ درود کے الفاظ ادا کرتے ہوے یہ حقیقت ملحوظ رہے کہ ہم اپنے پروردگار سے دعا مانگ رہے ہیں. یہ سوچ ان الفاظ میں اپ کی دلچسپی اور لطف دونوں بڑھا دیگی. ایک اور پہلو جو ہماری توجہ کا طالب ہے وہ یہ کہ جب ہم اس درود میں ' آل رسول ' کا ذکر کرتے ہیں تو اس سے مراد محض آپ (ص) کا خاندان نہیں ہوتا بلکے اپنے وسیع معنوں میں یہ لفظ تمام امت رسول (ص) کا احاطہ کرتا ہے. یہ قرآن اور عربی دونوں کا اسلوب ہے کہ لفظ ' آل ' سے مراد قبیلہ یا امّت بھی ہوتا ہے. اسی لیے قرآن پاک میں جب فرعون کے ماننے والو کا ذکر ہوا تو انہیں ' آل فرعون ' کہہ کر مخاطب کیا گیا. لہٰذا آئندہ جب ہم درود میں آل رسول کا ذکر کریں تو یہ جانتے ہوے کریں کے اسمیں رسول (ص) کے خاندان والے بھی شامل ہیں اور تمام امتی بشمول میں خود بھی شامل ہوں. واللہ عالم بالصواب. قدرت اللہ شہاب ،عظیم نامہ

Comments

Popular posts from this blog

پیش حق مژدہ شفاعت کا تضمین بر کلام امام احمد رضا

.کوئی گل باقی رہے گا نہ چمن رہہ جائے گا تضمین بر کلامِ سیِّد کفایت علی کافیٓ علیہ الرحمہ