استغاثہ اور استعانت از احتشام فاروقی
استغاثہ اور استعانت
از_احتشام فاروقی
سوال : استغاثہ کا معنی کیا ہے ؟
جواب : استغاثہ کا مطلب ہے کہ بندے کا کسی مصیبت اور مشکل میں واقع ہونے کے وقت ایسی ہستی سے امداد اور دستگیری طلب کرنا جو اس کی حاجت یوری کرے اور مشکل آسان کرے
حیات الانبیاء فی قبورھم
از_احتشام_فاوقی
کیا انبیاء کرام اپنی قبروں میں زندہ ہیں ؟
جواب: ہاں ! کیونکہ یہ ثابت ہے کہ وہ حج کرتے ہیں اور اپنی قبروں میں نماز پڑھتے ہیں ،علماء کرام فرماتے ہیں کہ بعض اوقات انسان مکلف نہیں ہوتا ، لیکن لطف اندوز ہونے کے لیے اعمال ادا کرتا ہے لہزا یہ بات اس امر کے منافی نہیں ہے کہ آخرت دار الجزاء ہے
سوال : انبیاء کرام کی حیات مبارکہ پر کیا دلیل ہے ؟
جواب : صحیح مسلم میں حضرت انس سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا
اتیت لیلة اسری بی علی موسی قائما یصلی فی قبرہ عند الکثیب الاحمر (1)
کہ شب معراج موسی علیہ السلام کے پاس سے ہمارا گزر ہوا ، وہ سرخ ٹیلے کے پاس اپنی قبر میں نماز پڑھ رہے تھے
امام بیہقی اور ابو یعلٰی حضرت انس سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :
" الانبیاء احیاء فی قبورھم یصلون (2)
کہ انبیاء کرام اپنی قبروں میں زندہ ہیں اور نماز پڑھتے ہیں
علماء کرام فرماتے ہیں کہ اللہ تعالی نے قرآن میں فرمایا کہ :
ولا تحسبن الذین قتلوا فی سبیل اللہ اموتا بل احیاء عند ربھم یرزقون (3)
کہ ان لوگوں کو مردہ گمان نہ کرو جو اللہ کی راہ میں شہید کیے گئے بلکہ وہ زندہ ہیں اور اپنے رب کے ہاں رزق دیئے جاتے ہیں
تو جب شہدا زندہ ہیں تو انبیاء کرام تو بدرجہ اولی زندہ ہیں کیونکہ وہ شھداء سے زیادہ درجہ رکھتے ہیں
و عن عائشہ قالت کنت ادخل بیتی الذی فیہ رسول اللہ و ابی، وانی واضع ثوبی و اقول انما ھو زوجی و ابی ، فلما دفن عمر معہم فواللہ ما دخلت الا وانا مشدودة علی ثیابی حیاء من عمر رواہ الاحمد (4)
اور حضرت سیدہ عائشہ فرماتی ہیں کہ میں اپنے گھر میں جس میں رسول اللہ ﷺ اور میرے والد ماجد آرام فرماتھے (یعنی روضہ رسول ﷺ) اس حال میں داخل ہوجاتی کہ پردے کا کچھ خاص خیال نہ رکھتی اور کہتی کہ ان میں سے ایک میرے شوہر اور دوسری میرے والد ہیں لیکن جب ان کے ساتھ حضرت عمر دفن ہوئے تو اللہ کی قسم ! عمر سے حیا کی بنا پر میں اس طرح داخل ہوتی کہ میں نے اپنے جسم کو خوب اچھی طرح کپڑوں میں لپیٹ رکھا ہوتا تھا،
اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کی سیدہ عائشہ کو اس امر میں کوئی شک نہ تھا کہ حضرت عمر فاروق انہیں دیکھ رہے ہیں یہی وجہ تھی کہ جب حضرت عم
مخلوق سے مدد مانگنا
سوال : کیا اللہ تعالی کی مخلوق سے امداد مانگی جاسکتی ہے ؟
جواب ہاں! اللہ تعالی کی مخلوق سے سبب اور واسطہ ہونے کی حثیت سے امداد طلب کرنا جائز ہے کیونکہ امداد حقیقة تو اللہ تعالی ہی کی طرف سے ہے، لیکن اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ اس نے امداد کے اسباب اور واسطے بھی پیدا نہیں کیے ، اسکی دلیل رسول اللہ کا ارشاد ہے کہ اللہ تعالی اس وقت تک بندے کی مدد فرماتا ہے جب تک بندہ اپنء بھائی کی مدد میں مصروف رہتا ہے
واللہ فی عون العبد ماکان العبد فی عون اخیہ (1)
کہ اللہ تعالی اس وقت تک بندے کی مدد فرماتا ہے جب تک بندہ اپنے بھائی کی مدد میں مصروف رہتا ہے
اور دوسری حدیث میں فرمایا کہ
وان تغیثوا الملھوف و تھدوا الضال (2)
کہ مصیبت زدہ کی مدد کرو اور گم کردہ کی رہنمائی کرو
مذکورہ بالا احادیث میں سرکار دوعالم نے امداد کرنے کی نسبت بندے کی طرف فرمائی اور ایک دوسرے کی مدد کرنے کی تلقین فرمائی
اس مزید چند ایک دلائل ملاحظہ فرمائیں
امام بخاری کتاب الزکوة میں رویت کرتے ہیں ہیں کہ نبی کریم نے فرمایا :قیامت کے دن سورج قریب ہوجائے گا ، یہاں تک کہ پسینے آدھے کان تک پہنچ جائیں گے ، لوگ اس حالت میں حضرت آدم پھر حضرت موسی پھر سید العالمین حضرت محمد مصطفی سی مدد طلب کریں گے...(3)
اور امام،طبرانی روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم نے فرمایا : جب تم میں سے کوئی آدمی راستے سے بھٹک جائے یا امداد کا طلب گار ہو ، یا وہ ایسی زمین میں جہاں کوئی غمگسار نہ ہو تو کہے
یا عباد اللہ اغیثونی" اور ایک روایت میں ہے
یا عباد اللہ اعینونی (4)
کہ اے اللہ کے بندو میری مدد کرو
کیونکہ اللہ تعالی کے کچھ ایسے بندے ہیں جنہیں تم نہیں دیکھتے
اس حدیث میں صراحت یہ ہے کہ اللہ تعالی کے ایسے بندوں سے مدد طلب کرنا اور انہیں ندا کرنا جائز ہے جو غائب ہوں...
حولہ جات
1: صحیح مسلم ، 345/ 2 کتاب الذکر : باب فضل الاجتماع علی تلاوة القرآن و الذکر
2: ابو داؤد 308/2 ، کتاب الادب : باب الجلوس بالطرقات
3 : البخاری 199/1 ، کتاب الزکوة: باب من سال الناس تکثیرا
4: الکبیر امام طبرانی ، 217/10
Comments
Post a Comment