جھوٹے مدعیان نبوت اسود عنسی از لائبہ فیضان نقشبندی
حصہ اول..
اسود عنسی
اس کذاب کا تعلق یمن سے تھا۔ یہ خاتم الانبیاء سید المرسلین حضرت محمد ﷺ کی حیات مبارکہ میں دعویٰ نبوت کرنے والا پہلا شخص تھا۔
اسود عنسی شعبدہ بازی اور کہانت میں اپنا ثانی نہیں رکھتا تھا چونکہ اس زمانے میں یہ دو چیزیں کسی کے باکمال ہونے کی دلیل سمجھی جاتی تھیں لہٰذا یہی وجہ ہے کہ لوگوں کی بڑی تعداد اس کی معتقد بن گئی۔
اسود عنسی کو ذوالحمار کے لقب سے بھی جانا جاتا تھا، تاریخ نویس لکھتے ہیں کہ اس کے پاس ایک سدھایا ہوا گدھا تھا یہ جب اس کو کہتا خدا کو سجدہ کرو تو وہ فوراً سربسجود ہوجاتا،
اسی طرح جب بیٹھنے کو کہتا بیٹھ جاتا اور اور کھڑے ہونے کو کہتا کھڑا ہوجاتا، نجران کے لوگوں کوجب اس کے دعویٰ نبوت کا علم ہوا تو انہوں نے اسے امتحان کی غرض سے اپنے ہاں مدعو کیا۔ اس نے وہاں بھی اپنی شعبدے بازی دکھائی، لوگوں کو متاثر کیا اور چکنی چپڑی باتوں سے اہل نجران کی اکثریت کو اپنا ہم نوا بنالیا اور آہستہ آہستہ اس نے اپنی طاقت بڑھانا شروع کردی۔
سب سے پہلے اس نے نجران پر ہی فوج کشی کرکے عمرو بن حزم اور خالد بن سعید کو وہاں سے بیدخل کیا اور پھر بتدریج پورے یمن پر قبضہ کرلیا۔ عمرو بن حزم اور خالد بن سعید نے مدینہ منورہ پہنچ کر سارا قصہ حضور نبی کریم ﷺ کے گوش گزار کیا جس پر آپ ﷺ نے یمن کے بعض سرداروں اور اہل نجران کو اسود کے خلاف جہاد کا حکم نامہ تحریر فرمایا اور یوں یہ لوگ باہم ربط اسود کے خلاف متحد ہوگئے۔
اسود عنسی کا قتل.
اسود عنسی نے صنعا پر قبضے کے بعد اس شہر کے مسلمان حاکم شیر بن باذان کی بیوی آزاد کو اپنے گھر میں قید کرلیا لیکن وہ اس سے سخت نفرت کرتی تھیں۔
ادھر آزاد کے چچا ذاد بھائی فیروز کو اس کا سخت رنج ہوا اور وہ آزاد کو اسود سے نجات دلانے اور انتقام لینے کے لیے مواقع ڈھونڈنے لگا۔
جب آپ ﷺ کا حکم نامہ ملا تو یمن کے مسلمان اسود کے خلاف لشکر کشی کے بجائے گھر میں گھس کر اسود عنسی کذاب کو قتل کرنے کی منصوبہ بندی کرنے لگے۔
اسی دوران فیروز اپنی تایا زاد بہن آزاد سے ملا اور اس کو اسود عنسی کے قتل کرنے میں مدد کے لیے آمادہ کرلیا۔
آزاد کی مدد سے فیروز اپنے ساتھیوں کے ہمراہ محل میں داخل ہوا اور کذاب اسود کے کمرے میں گھس کر اس کی گردن توڑ کر مار ڈالا۔ اسود عنسی کے گلے سے خرخر کی آواز سن کر پہرے دار آگے بڑھے مگر آزادنے یہ کہہ کر انہیں روک دیا کہ خبردار آگے مت جانا تمہارے نبی پر وحی کا نزول ہورہا ہے۔
فیروز نے محل سے باہر نکل کر اس کذاب کی موت کی خبر سنائی تو سب پر سکتہ طاری ہوگیا۔ اسود کے قتل کے بعد جب مسلمانوں کا غلبہ ہوگیا تو اسود کے پیروکار صنعا اور نجران کے درمیان صحرا نوردی اور بادیہ پیمائی کی نذر ہوگئے اور یوں یمن ونجران ارتداد کے وجود سے پاک ہوگیا اور آپ ﷺ کے احکامات دوبارہ بحال کردیے گئے۔
اسود عنسی پہلا کذاب تھا جو حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے حکم پر آپ ﷺ کی حیات مبارکہ میں اپنے انجام کو پہنچا۔
جاری........
Comments
Post a Comment