خاموشی اور کم گوئی از احتشام فاروقی

خاموشی اور کم گوئی
از احتشام فاروقی

خاموشی کا معنی و مفہوم
خاموشی کے لفظی معنی چپ رہنے کے ہیں مگر اہل تصوف کے نزدیک خاموشی باطنی توجہ کو کہتے ہیں اور اس سے مراد یہ ہے کے ایسی بات کہی جائے جس کی ضرورت ہو اور ہر اس بات سے بچا جائے جس میں کوئی دینی اور دنیاوی منفعت کا پہلو موجود نہ ہو

قوت گویائی وہ نعمت خداوندی ہے جس کی بدولت انسان دیگر مخلوقات سے ممتاز ہوتا ہے
گفتگو سے انسان کی شخصیت کا اظہار ہوتا ہے اور اس کے مثبت یا منفی پہلو سامنے آتے ہیں
لیکن اگر اگر یہی گفتگو فضول ہو تو انسان کے لیے وبال جان بن جاتی ہے
امام غزالی احیاء العلوم میں حضرت عیسی کا قول نقل کرتے ہیں
حضرت عیسی کی خدمت میں عرض کیا گیا کہ ہمیں ایسا عمل بتائیں جس سے ہم جنت میں داخل ہوجائیں ، آپ نے خاموش رہنے کی تلقین فرمائی
لوگوں نے کہا ایسا تو بہت مشکل ہے تو آپ نے فرمایا کہ صرف بھلائی کی بات نہ کی جائے

خاموشی کے فوائد
1: خاموشی کا ایک فائدہ یہ بھی ہے کہ انسان کے خیالات مجتمع رہتے ہیں
2: خاموشی ہو نعمت ہے جس سے دل میں نئے نئے خیالات جنم لیتے ہیں
3: خاموشی سے روشن ضمیری اور پختہ خیالی جنم لیتی ہے
4: خاموشی ہزار جوابوں سے بہتر ہے

خاموشی کی اہمیت و فضیلت
1:مومن وہ ہے جو اچھی بات کہے یا خاموش رہے
رسول اللہ نے ارشاد فرمایا
من کان یومن باللہ والیوم الاخر فلیقل خیرا او لیصمت
کہ جو اللہ اور قیامت کے دن پر ایمان رکھتا ہے اسے چاہیے کی اچھی بات منہ سے نکالے یا خاموش رہے

خاموشی سراسر حکمت
حضرت انس سے روایت ہے کہ آقا علیہ السلام نے ارشاد فرمایا
الصمت حکم و قلیل فاعلہ
خاموشی سراسر حکمت ہے مگر اسے اختیار کرنے والے قلیل ہیں

مفید کلام
حضرت ام حبیبہ سے مروی ہے کہ حضور علیہ السلام نے فرمایا
کل کلام ابن آدم علیہ لالہ الا امر بمعروف او نھی عن المنکر او ذکر اللہ
انسان کی ہر گفتگو میں اس کا نقصان ہے فائدہ نہیں سوائے اس گفتگو کے کہ جو نیکی کا حکم دینے برائی سے منع کرنے اور اللہ تعالی کے ذکر پر مشتمل ہو

زبان کے فتنوں سے حفاظت کی تلقین
حضرت عبد اللہ الثقفی فرماتے ہیں میں نے عرض کیا یارسول اللہ آپ کو ہم پر کس بات کا زیادہ ڈر ہے ؟
فاخذ رسول اللہ بلسان نفسہ ثم قال :ھذا ...
حضور علیہ السلام نے اپنی زبان پکڑ کر فرمایا اس کا

خاموشی ذریعہ نجات
حضرت عبداللہ بن عمرو بیان فرماتے ہیں حضور نے ارشاد فرمایا
من صمت نجا
جو خاموش رہا اس نے نجات پائی

زبان پر قابو رکھنے والے کو جنت کی ضمانت
من یضمن لی ما بین لحییہ وما بین رجلیہ اضمن لہ الجنة کہ جو مجھے اس کی ضمانت دے جو دو جنڑوں کے درمیان ہے یعنی زبان اور جو دو ٹانگوں کے درمیان ہے میں اسے جنت کی ضمانت دیتا ہوں

اللہ کے ہاں پسندیدہ عمل
حضور علیہ السلام نے فرمایا
ای الاعمال احب الی اللہ
کہ اللہ کے ہاں پسندیدہ عمل کونسا ہے
تو صحابہ خاموش ہوگئے اور پھر آپ نے خود ہی جواب دیا کہ
ھو حفظ اللسان
وہ زبان کی حفاظت کرنا ہے

خاموشی اختیار کرنے کا منفرد طریقہ
بعض سلف و صالحین خاموشی کی عادت ڈالنے کے لیے اپنے منہ میں کنکریاں رکھتے تھے تاکہ کلام کرتے وقت منہ میں رکاوٹ ہو اور وہ خاموش رہیں

شیخ ابو طالب مکی ایک بزرگ کا قول نقل کرتے ہیں
کہ میں نے فضول کلمہ گوئی کے ہر کلمہ پر اپنے آپ کو دو رکعت پڑھنے کا پابند بنا لیا اور یہ کام مجھ پر آسان تھا پھر میں نے بے معنی و فضول بات پر اپنے آپ کو روزہ کا پابند بنا لیا تو یہ بھی مجھ پر آسان رہا آخر کار میں نے ہر فضول بات پر اپنے آپ کو ایک درھم صدقہ کرنے کا پابند کرلیا تو یہ کام مجھے مشکل نظر آیا اور میں فضول کلام ترک کر دیا

Comments

Popular posts from this blog

پیش حق مژدہ شفاعت کا تضمین بر کلام امام احمد رضا

.کوئی گل باقی رہے گا نہ چمن رہہ جائے گا تضمین بر کلامِ سیِّد کفایت علی کافیٓ علیہ الرحمہ